فیس بک کی وجہ سے نوعمر لڑکیوں نے یہ ایک شرمناک ترین کام کرنا چھوڑ دیا، جدید تحقیق میں ایسا انکشاف جس کی کسی کو بھی توقع نہ تھی

https://newskisite.com
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کا جنون نوجوان نسل کے یوں سر چڑھ چکا ہے کہ اس کے مثبت پہلو، منفی پہلوﺅں کے انبار میں کہیں دب کر رہ گئے ہیں۔ ماہرین اب تک سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کے کئی نقصانات سے آگاہ کر چکے ہیں، تاہم اب انہوں نے اس کا ایک حیران کن فائدہ بھی بتا دیا ہے جس کا کبھی ہم نے سوچا بھی نہ تھا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق دنیا، بالخصوص مغربی معاشروں میں کم عمر لڑکیوں کا حاملہ ہوناایک بڑا شرمناک مسئلہ تھالیکن گزشتہ 8سالوں میں 18سال سے کم عمر لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی شرح تقریباًآدھی رہ گئی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں نے سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک کی وجہ سے یہ شرمناک کام ترک کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ”کم عمر لڑکیوں کے حاملہ ہونے میں کمی اور فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسی سوشل ویب سائٹس کا عروج دونوں ایک ساتھ ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ان ویب سائٹس نے نوجوان نسل کے رویوں میں حیران کن تبدیلیاں پید اکی ہیں جس کے باعث 18سال تک کی لڑکیوں کے امید سے ہونے کی شرح آدھی رہ گئی ہے۔ برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 2015ءمیں 18سال تک کی 1000میں سے صرف 21لڑکیاں حاملہ ہوئیں۔ 2007ءمیں یہ تعداد 42تھی۔
2007ءمیں 13سے 15سال عمر کی 1ہزار لڑکیوں میں سے 8.1حاملہ ہوئی تھیں۔ 2015ءمیں یہ شرح بھی کم ہو کر 3.1رہ گئی ہے۔ برطانیہ بھر میں 2015ءمیں 18سال سے کم عمر کی 20ہزار 351لڑکیاں حاملہ ہوئیں۔ یہ 1969ءتک کے دستیاب ریکارڈ میں تاریخ کی کم ترین تعداد ہے۔ ادارہ برائے قومی شماریات کے ایک آفیسر کا کہنا تھا کہ ”ہمارے ڈیٹا کے مطابق کم عمرلڑکیوں کے ماں نہ بننے میں اگرچہ سوشل میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے تاہم بہتر جنسی تعلیم اور مانع حمل ادویات تک آسان رسائی بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں